میں تو تنہا تھا مگر تجھ کو بھی تنہا دیکھا

جمیل ملک

میں تو تنہا تھا مگر تجھ کو بھی تنہا دیکھا

جمیل ملک

MORE BYجمیل ملک

    میں تو تنہا تھا مگر تجھ کو بھی تنہا دیکھا

    اپنی تصویر کے پیچھے ترا چہرا دیکھا

    جس کی خوشبو سے مہک جائے شبستان وصال

    دوستو تم نے کبھی وہ گل صحرا دیکھا

    اجنبی بن کے ملے دل میں اترتا جائے

    شہر میں کوئی بھی تجھ سا نہ شناسا دیکھا

    اب تو بس ایک ہی خواہش ہے کہ تجھ کو دیکھیں

    ساری دنیا میں پھرے اور نہ کیا کیا دیکھا

    کوئی صورت بھی شناسا نظر آئی نہ ہمیں

    گھر سے نکلے تو عجب شہر کا نقشہ دیکھا

    اس قدر دھوپ تھی سنولا گئے رخشاں چہرے

    جلتے سورج کا مگر رنگ بھی پیلا دیکھا

    پیڑ کا دکھ تو کوئی پوچھنے والا ہی نہ تھا

    اپنی ہی آگ میں جلتا ہوا سایہ دیکھا

    تھے اندھیروں کے تعاقب میں اجالے کیا کیا

    خود تماشہ تھے جمیلؔ اور تماشہ دیکھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY