مکہ گیا مدینہ گیا کربلا گیا

میر تقی میر

مکہ گیا مدینہ گیا کربلا گیا

میر تقی میر

MORE BYمیر تقی میر

    مکہ گیا مدینہ گیا کربلا گیا

    جیسا گیا تھا ویسا ہی چل پھر کے آ گیا

    دیکھا ہو کچھ اس آمد و شد میں تو میں کہوں

    خود گم ہوا ہوں بات کی تہہ اب جو پا گیا

    کپڑے گلے کے میرے نہ ہوں آب دیدہ کیوں

    مانند ابر دیدۂ تر اب تو چھا گیا

    جاں سوز آہ و نالہ سمجھتا نہیں ہوں میں

    یک شعلہ میرے دل سے اٹھا تھا جلا گیا

    وہ مجھ سے بھاگتا ہی پھرا کبر و ناز سے

    جوں جوں نیاز کر کے میں اس سے لگا گیا

    جور سپہر دوں سے برا حال تھا بہت

    میں شرم ناکسی سے زمیں میں سما گیا

    دیکھا جو راہ جاتے تبختر کے ساتھ اسے

    پھر مجھ شکستہ پا سے نہ اک دم رہا گیا

    بیٹھا تو بوریے کے تئیں سر پہ رکھ کے میرؔ

    صف کس ادب سے ہم فقرا کی اٹھا گیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY