منظور تھی یہ شکل تجلی کو نور کی

مرزا غالب

منظور تھی یہ شکل تجلی کو نور کی

مرزا غالب

MORE BY مرزا غالب

    منظور تھی یہ شکل تجلی کو نور کی

    قسمت کھلی ترے قد و رخ سے ظہور کی

    اک خونچکاں کفن میں کروڑوں بناؤ ہیں

    پڑتی ہے آنکھ تیرے شہیدوں پہ حور کی

    واعظ نہ تم پیو نہ کسی کو پلا سکو

    کیا بات ہے تمہاری شراب طہور کی

    لڑتا ہے مجھ سے حشر میں قاتل کہ کیوں اٹھا

    گویا ابھی سنی نہیں آواز صور کی

    آمد بہار کی ہے جو بلبل ہے نغمہ سنج

    اڑتی سی اک خبر ہے زبانی طیور کی

    گو واں نہیں پہ واں کے نکالے ہوئے تو ہیں

    کعبے سے ان بتوں کو بھی نسبت ہے دور کی

    کیا فرض ہے کہ سب کو ملے ایک سا جواب

    آؤ نہ ہم بھی سیر کریں کوہ طور کی

    گرمی سہی کلام میں لیکن نہ اس قدر

    کی جس سے بات اس نے شکایت ضرور کی

    غالبؔ گر اس سفر میں مجھے ساتھ لے چلیں

    حج کا ثواب نذر کروں گا حضور کی

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    منظور تھی یہ شکل تجلی کو نور کی نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY