مرحلہ رات کا جب آئے گا

قتیل شفائی

مرحلہ رات کا جب آئے گا

قتیل شفائی

MORE BYقتیل شفائی

    مرحلہ رات کا جب آئے گا

    جسم سائے کو ترس جائے گا

    چل پڑی رسم جو کج فہمی کی

    بات کیا پھر کوئی کر پائے گا

    سچ سے کترائے اگر لوگ یہاں

    لفظ مفہوم سے کترائے گا

    اعتبار اس کا ہمیشہ کرنا

    وہ تو جھوٹی بھی قسم کھائے گا

    تو نہ ہوگی تو پھر اے شام فراق

    کون آ کر ہمیں بہلائے گا

    ہم اسے یاد بہت آئیں گے

    جب اسے بھی کوئی ٹھکرائے گا

    کائنات اس کی مری ذات میں ہے

    مجھ کو کھو کر وہ کسے پائے گا

    نہ رہے جب وہ بھلے دن بھی قتیلؔ

    یہ زمانہ بھی گزر جائے گا

    مآخذ:

    • کتاب : kalam-e-qateel shifai (Pg. 123)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY