اپنے احساس سے چھو کر مجھے صندل کر دو

وصی شاہ

اپنے احساس سے چھو کر مجھے صندل کر دو

وصی شاہ

MORE BYوصی شاہ

    اپنے احساس سے چھو کر مجھے صندل کر دو

    میں کہ صدیوں سے ادھورا ہوں مکمل کر دو

    نہ تمہیں ہوش رہے اور نہ مجھے ہوش رہے

    اس قدر ٹوٹ کے چاہو مجھے پاگل کر دو

    تم ہتھیلی کو مرے پیار کی مہندی سے رنگو

    اپنی آنکھوں میں مرے نام کا کاجل کر دو

    اس کے سائے میں مرے خواب دہک اٹھیں گے

    میرے چہرے پہ چمکتا ہوا آنچل کر دو

    دھوپ ہی دھوپ ہوں میں ٹوٹ کے برسو مجھ پر

    اس قدر برسو مری روح میں جل تھل کر دو

    جیسے صحراؤں میں ہر شام ہوا چلتی ہے

    اس طرح مجھ میں چلو اور مجھے جل تھل کر دو

    تم چھپا لو مرا دل اوٹ میں اپنے دل کی

    اور مجھے میری نگاہوں سے بھی اوجھل کر دو

    مسئلہ ہوں تو نگاہیں نہ چراؤ مجھ سے

    اپنی چاہت سے توجہ سے مجھے حل کر دو

    اپنے غم سے کہو ہر وقت مرے ساتھ رہے

    ایک احسان کرو اس کو مسلسل کر دو

    مجھ پہ چھا جاؤ کسی آگ کی صورت جاناں

    اور مری ذات کو سوکھا ہوا جنگل کر دو

    RECITATIONS

    وصی شاہ

    وصی شاہ,

    وصی شاہ

    Apne ehsas se chhu kar mujhe sandal kar do وصی شاہ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY