بھول کر تو سارے غم اپنے چمن میں رقص کر

آصف انجم

بھول کر تو سارے غم اپنے چمن میں رقص کر

آصف انجم

MORE BYآصف انجم

    بھول کر تو سارے غم اپنے چمن میں رقص کر

    جاگ اے درویش جاں میرے بدن میں رقص کر

    ڈال کر چادر وفا کی تو مزار عشق پر

    دار منصوری پہ آ اس پیرہن میں رقص کر

    تو گریباں چاک جو نکلا ہے غم کی بھیڑ میں

    جا چلا جا چھوڑ سب تو اس کے من میں رقص کر

    بارگاہ حسن میں جھک کر سلامی پیش کر

    باندھ کر گھنگرو گلوں کے بانکپن میں رقص کر

    کس لیے جلنے نہیں دیتی چراغوں کو مرے

    اے ہوا تو جا کہیں کوہ و دمن میں رقص کر

    یہ رموز معرفت تجھ پر عیاں ہوں گے تبھی

    پی طریقت کا سبو اور اس اگن میں رقص کر

    موضوعات :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY