چراغ طور جلاؤ بڑا اندھیرا ہے

ساغر صدیقی

چراغ طور جلاؤ بڑا اندھیرا ہے

ساغر صدیقی

MORE BYساغر صدیقی

    دلچسپ معلومات

    جب نامور گلو کار مہدی حسن نے گائی تو ان کی آواز میں یہ غزل ہندوستان بھی پہنچی اور اسے دیگر ہندوستانی گلوکاروں نے بھی گایا ۔ واقعہ یہ ہے کہ ایک دن ساغر صدیقی سوتر منڈی (پاکستان) میں ایک پان کی دکان کے سامنے سے گزر رہے تھےتو اس وقت آل انڈیا ریڈیو کے کسی سٹیشن سے کوئی گائک ان کی یہی غزل گا رہا تھا ، ساغر صدیقی رک گئے ۔غزل کے اختتام پر اناؤنسر نے جب یہ کہا ''ابھی آپ پاک و ہند کے مشہور شاعر ساغر صدیقی کی غزل سن رہے تھے'' تو ساغر نے ہنس کر کہا ''واہ رے مولا ان کو معلوم ہی نہیں کہ ساغر کس حال میں زندہ ہے'' ،اور یہ شعر کہہ کر چل دیے ۔ ساقیا تیرے بادہ خانے میں ۔۔۔۔ نام ساغر ہے مے کو ترسے ہیں ۔۔

    چراغ طور جلاؤ بڑا اندھیرا ہے

    ذرا نقاب اٹھاؤ بڑا اندھیرا ہے

    ابھی تو صبح کے ماتھے کا رنگ کالا ہے

    ابھی فریب نہ کھاؤ بڑا اندھیرا ہے

    وہ جن کے ہوتے ہیں خورشید آستینوں میں

    انہیں کہیں سے بلاؤ بڑا اندھیرا ہے

    مجھے تمہاری نگاہوں پہ اعتماد نہیں

    مرے قریب نہ آؤ بڑا اندھیرا ہے

    فراز عرش سے ٹوٹا ہوا کوئی تارہ

    کہیں سے ڈھونڈ کے لاؤ بڑا اندھیرا ہے

    بصیرتوں پہ اجالوں کا خوف طاری ہے

    مجھے یقین دلاؤ بڑا اندھیرا ہے

    جسے زبان خرد میں شراب کہتے ہیں

    وہ روشنی سی پلاؤ بڑا اندھیرا ہے

    بنام زہرہ جبینان خطۂ فردوس

    کسی کرن کو جگاؤ بڑا اندھیرا ہے

    موضوعات :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY