نقاب الٹا ہے شمعوں نے ستارو تم تو سو جاؤ

انیس کیفی

نقاب الٹا ہے شمعوں نے ستارو تم تو سو جاؤ

انیس کیفی

MORE BYانیس کیفی

    نقاب الٹا ہے شمعوں نے ستارو تم تو سو جاؤ

    کریں گے رقص پروانے ستارو تم تو سو جاؤ

    نگاہوں میں نگہ ڈالے نشے میں چور متوالے

    پڑھیں گے دل کے افسانے ستارو تم تو سو جاؤ

    سجے گی محفل یاراں بدن سیمابی جھومیں گے

    کریں گے رقص پیمانے ستارو تم تو سو جاؤ

    بھٹکتے ہیں گلستاں میں بیابانوں میں صحرا میں

    مثال قیس دیوانے ستارو تم تو سو جاؤ

    وہ بیٹھے ہیں جھکائے سر ادائے دلنوازی سے

    لگے ہیں خود سے شرمانے ستارو تم تو سو جاؤ

    کھلی زلفیں لیے وہ جھیل کی جانب خراماں سے

    برہنہ پا لگے آنے ستارو تم تو سو جاؤ

    دبائے ہونٹ دانتوں میں لگے ہیں چشم و مژگاں سے

    نظر کے تیر برسانے ستارو تم تو سو جاؤ

    اتر کر آسماں سے دیکھیے روٹھے صنم کو اب

    قمر آیا ہے بہلانے ستارو تم تو سو جاؤ

    ہوئے ہیں ٹکڑے ٹکڑے اب دل بسمل کے اے کیفیؔ

    کہ ہوگا کیا خدا جانے ستارو تم تو سو جاؤ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY