سب ضرورت کا تو سامان ہے گھر میں رہئے

ونیت آشنا

سب ضرورت کا تو سامان ہے گھر میں رہئے

ونیت آشنا

MORE BYونیت آشنا

    سب ضرورت کا تو سامان ہے گھر میں رہئے

    کیا ہوا گر کوئی ہلکان ہے گھر میں رہئے

    بھیڑ میں بھی نہ تھے سینے سے لگانے والے

    آج تو شہر ہی ویران ہے گھر میں رہئے

    سانس گھٹ جائے گی دیواروں کے کے اندر اک دن

    اور سنتے ہیں کہ درمان ہے گھر میں رہئے

    بند ہیں مندر و مسجد کی دکانیں ساری

    آج بازار یہ سنسان ہے گھر میں رہئے

    کل تلک ملک سے باہر جو کئے دیتے تھے

    اب تو ان کا بھی یہ فرمان ہے گھر میں رہئے

    ہر مرض میں نہیں ہوتی ہے سہولت اتنی

    بھوک سے مرنا تو آسان ہے گھر میں رہئے

    قید پھر قید ہی ہوتی ہے مگر حسب حال

    سب سے بہتر یہی زندان ہے گھر میں رہئے

    آپ دل سے مجھے بے دخل کئے دیتے ہیں

    اب تو سرکار کا اعلان ہے گھر میں رہئے

    اس کی تصویر ان آنکھوں کے لیے کافی ہے

    اور پھر میر کا دیوان ہے گھر میں رہئے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY