یوں بے کار نہ بیٹھو دن بھر یوں پیہم آنسو نہ بہاؤ

احمد ندیم قاسمی

یوں بے کار نہ بیٹھو دن بھر یوں پیہم آنسو نہ بہاؤ

احمد ندیم قاسمی

MORE BYاحمد ندیم قاسمی

    یوں بے کار نہ بیٹھو دن بھر یوں پیہم آنسو نہ بہاؤ

    اتنا یاد کرو کہ بالآخر آسانی سے بھول بھی جاؤ

    سارے راز سمجھو لو لیکن خود کیوں ان کو لب پر لاؤ

    دھوکا دینے والا رو دے ایسی شان سے دھوکا کھاؤ

    ظلمت سے مانوس ہیں آنکھیں چاند ابھرا تو مند جائیں گی

    بالوں کو الجھا رہنے دو اک الجھاؤ سو سلجھاؤ

    کل کو کل پر رکھو جب کل آئے گا دیکھا جائے گا

    آج کی رات بہت بھاری ہے آج کی رات یہیں رہ جاؤ

    کب تک یوں پردے میں حسن محبت کو ٹھکراتا

    موت کا دن بھی حشر کا دن ہے چھپنے والو سامنے آؤ

    مأخذ :
    • کتاب : kulliyat-e-ahmad nadiim qaasmii (Pg. 91)

    موضوعات :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY