موسم ہجر کے آنے کے شکایت نہیں کی

حلیم قریشی

موسم ہجر کے آنے کے شکایت نہیں کی

حلیم قریشی

MORE BY حلیم قریشی

    موسم ہجر کے آنے کے شکایت نہیں کی

    اے مرے دل تجھے کیا ہو گیا وحشت نہیں کی

    کوئی الزام کوئی طنز کوئی رسوائی

    دن بہت ہو گئے یاروں نے عنایت نہیں کی

    لفظ کے شوق میں ایسا بھی مقام آیا ہے

    جز کسی شعر کی آمد کوئی حسرت نہیں کی

    جس کے نشے میں کوئی ہجر گزار آئے ہیں

    وہ گھڑی وصل کی ہم نے کبھی رخصت نہیں کی

    اب تجھے کیسے بتائیں کہ تری یادوں میں

    کچھ اضافہ ہی کیا ہم نے خیانت نہیں کی

    سارے معیار وفاؤں کے نبھائے ہم نے

    اس کو چھوڑا تو بہت سوچ کے، عجلت نہیں کی

    عشق دریا بھی سمندر بھی کنارہ بھی حلیمؔ

    ڈوبنے والے کو دیکھا ہے تو حیرت نہیں کی

    مآخذ:

    • Book: Ghazal Calendar-2015 (Pg. 30.04.2015)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites