مواد کر کے فراہم چمکتی سڑکوں سے

حزیں لدھیانوی

مواد کر کے فراہم چمکتی سڑکوں سے

حزیں لدھیانوی

MORE BYحزیں لدھیانوی

    مواد کر کے فراہم چمکتی سڑکوں سے

    سجا رہا ہوں غزل کو نئے خیالوں سے

    چھپی ہے ان میں نہ جانے کہاں کی چیخ پکار

    بلند ہوتے ہیں نغمے جو روز محلوں سے

    نظر نہ آئی کبھی پھر وہ گاؤں کی گوری

    اگرچہ مل گئے دیہات آ کے شہروں سے

    گزار دیتے ہیں عمریں وہ گھپ اندھیروں میں

    لٹک رہے ہیں جو بجلی کے اونچے کھمبوں سے

    سمندر اب تو انہیں اور بے قرار نہ کر

    گزر کے آئی ہیں لہریں ہزار نہروں سے

    طلوع ہوگا ابھی کوئی آفتاب ضرور

    دھواں اٹھا ہے سر شام پھر چراغوں سے

    حزیںؔ یہ شعلۂ تاباں کبھی نہیں بجھتا

    میں کیوں حیات کو تشبیہ دوں حبابوں سے

    مآخذ :
    • کتاب : Range-e-Gazal (Pg. 184)
    • Author : shahzaad ahmad
    • مطبع : Ali Printers, 19-A Abate Road, Lahore (1988)
    • اشاعت : 1988

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY