ہر ایک شکل میں صورت نئی ملال کی ہے

عرفان ستار

ہر ایک شکل میں صورت نئی ملال کی ہے

عرفان ستار

MORE BYعرفان ستار

    ہر ایک شکل میں صورت نئی ملال کی ہے

    ہمارے چاروں طرف روشنی ملال کی ہے

    ہم اپنے ہجر میں تیرا وصال دیکھتے ہیں

    یہی خوشی کی ہے ساعت، یہی ملال کی ہے

    ہمارے خانۂ دل میں نہیں ہے کیا کیا کچھ

    یہ اور بات کہ ہر شے اسی ملال کی ہے

    ابھی سے شوق کی آزردگی کا رنج نہ کر

    کہ دل کو تاب خوشی کی نہ تھی ملال کی ہے

    کسی کا رنج ہو، اپنا سمجھنے لگتے ہیں

    وبال جاں یہ کشادہ دلی ملال کی ہے

    نہیں ہے خواہش آسودگیٔ وصل ہمیں

    جواز عشق تو بس تشنگی ملال کی ہے

    گزشتہ رات کئی بار دل نے ہم سے کہا

    کہ ہو نہ ہو یہ گھٹن آخری ملال کی ہے

    رگوں میں چیختا پھرتا ہے ایک سیل جنوں

    اگرچہ لہجے میں شائستگی ملال کی ہے

    عجیب ہوتا ہے احساس کا تلون بھی

    ابھی خوشی کی خوشی تھی، ابھی ملال کی ہے

    یہ کس امید پہ چلنے لگی ہے باد مراد؟

    خبر نہیں ہے اسے، یہ گھڑی ملال کی ہے

    دعا کرو کہ رہے درمیاں یہ بے سخنی

    کہ گفتگو میں تو بے پردگی ملال کی ہے

    تری غزل میں عجب کیف ہے مگر عرفانؔ

    درون رمز و کنایہ کمی ملال کی ہے

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے