محفلیں لٹ گئیں جذبات نے دم توڑ دیا

ساغر صدیقی

محفلیں لٹ گئیں جذبات نے دم توڑ دیا

ساغر صدیقی

MORE BYساغر صدیقی

    محفلیں لٹ گئیں جذبات نے دم توڑ دیا

    ساز خاموش ہیں نغمات نے دم توڑ دیا

    ہر مسرت غم دیروز کا عنوان بنی

    وقت کی گود میں لمحات نے دم توڑ دیا

    ان گنت محفلیں محروم چراغاں ہیں ابھی

    کون کہتا ہے کہ ظلمات نے دم توڑ دیا

    آج پھر بجھ گئے جل جل کے امیدوں کے چراغ

    آج پھر تاروں بھری رات نے دم توڑ دیا

    جن سے افسانۂ ہستی میں تسلسل تھا کبھی

    ان محبت کی روایات نے دم توڑ دیا

    جھلملاتے ہوئے اشکوں کی لڑی ٹوٹ گئی

    جگمگاتی ہوئی برسات نے دم توڑ دیا

    ہائے آداب محبت کے تقاضے ساغرؔ

    لب ہلے اور شکایات نے دم توڑ دیا

    RECITATIONS

    عاطر علی سید

    عاطر علی سید,

    عاطر علی سید

    محفلیں لٹ گئیں جذبات نے دم توڑ دیا عاطر علی سید

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے