مل ہی آتے ہیں اسے ایسا بھی کیا ہو جائے گا

احمد مشتاق

مل ہی آتے ہیں اسے ایسا بھی کیا ہو جائے گا

احمد مشتاق

MORE BYاحمد مشتاق

    مل ہی آتے ہیں اسے ایسا بھی کیا ہو جائے گا

    بس یہی نہ درد کچھ دل کا سوا ہو جائے گا

    وہ مرے دل کی پریشانی سے افسردہ ہو کیوں

    دل کا کیا ہے کل کو پھر اچھا بھلا ہو جائے گا

    گھر سے، کچھ خوابوں سے ملنے کے لیے نکلے تھے ہم

    کیا خبر تھی زندگی سے سامنا ہو جائے گا

    رونے لگتا ہوں محبت میں تو کہتا ہے کوئی

    کیا ترے اشکوں سے یہ جنگل ہرا ہو جائے گا

    کیسے آ سکتی ہے ایسی دل نشیں دنیا کو موت

    کون کہتا ہے کہ یہ سب کچھ فنا ہو جائے گا

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    مل ہی آتے ہیں اسے ایسا بھی کیا ہو جائے گا نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY