مل ہی جائے گا کبھی دل کو یقیں رہتا ہے

احمد مشتاق

مل ہی جائے گا کبھی دل کو یقیں رہتا ہے

احمد مشتاق

MORE BY احمد مشتاق

    مل ہی جائے گا کبھی دل کو یقیں رہتا ہے

    وہ اسی شہر کی گلیوں میں کہیں رہتا ہے

    جس کی سانسوں سے مہکتے تھے در و بام ترے

    اے مکاں بول کہاں اب وہ مکیں رہتا ہے

    اک زمانہ تھا کہ سب ایک جگہ رہتے تھے

    اور اب کوئی کہیں کوئی کہیں رہتا ہے

    روز ملنے پہ بھی لگتا تھا کہ جگ بیت گئے

    عشق میں وقت کا احساس نہیں رہتا ہے

    دل فسردہ تو ہوا دیکھ کے اس کو لیکن

    عمر بھر کون جواں کون حسیں رہتا ہے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    نامعلوم

    نامعلوم

    بھارتی وشواناتھن

    بھارتی وشواناتھن

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    مل ہی جائے گا کبھی دل کو یقیں رہتا ہے نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY