مرے وجود کو پرچھائیوں نے توڑ دیا

فاضل جمیلی

مرے وجود کو پرچھائیوں نے توڑ دیا

فاضل جمیلی

MORE BY فاضل جمیلی

    مرے وجود کو پرچھائیوں نے توڑ دیا

    میں اک حصار تھا تنہائیوں نے توڑ دیا

    بہم جو محفل اغیار میں رہے تھے کبھی

    یہ سلسلہ بھی شناسائیوں نے توڑ دیا

    بس ایک ربط نشانی تھا اپنے پرکھوں کی

    اسے بھی آج مرے بھائیوں نے توڑ دیا

    تو بے خبر ہے مگر نیند سے بھری لڑکی

    مرا بدن تری انگڑائیوں نے توڑ دیا

    خزاں کی رت میں بھی میں شاخ سے نہیں ٹوٹا

    مجھے بہار کی پروائیوں نے توڑ دیا

    مرا بھرم تھا یہی ایک میری تنہائی

    یہ اک بھرم بھی تماشائیوں نے توڑ دیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY