مری نظر مرا اپنا مشاہدہ ہے کہاں

عاصم واسطی

مری نظر مرا اپنا مشاہدہ ہے کہاں

عاصم واسطی

MORE BYعاصم واسطی

    مری نظر مرا اپنا مشاہدہ ہے کہاں

    جو مستعار نہیں ہے وہ زاویہ ہے کہاں

    اگر نہیں ترے جیسا تو فرق کیسا ہے

    اگر میں عکس ہوں تیرا تو آئنہ ہے کہاں

    ہوئی ہے جس میں وضاحت ہمارے ہونے کی

    تری کتاب میں آخر وہ حاشیہ ہے کہاں

    یہ ہم سفر تو سبھی اجنبی سے لگتے ہیں

    میں جس کے ساتھ چلا تھا وہ قافلہ ہے کہاں

    مدار میں ہوں اگر میں تو ہے کشش کس کی

    اگر میں خود ہی کشش ہوں تو دائرہ ہے کہاں

    تری زمین پہ کرتا رہا ہوں مزدوری

    ہے سوکھنے کو پسینہ معاوضہ ہے کہاں

    ہوا بہشت سے بے دخل جس کے باعث میں

    مری زبان پر اس پھل کا ذائقہ ہے کہاں

    ازل سے ہے مجھے درپیش دائروں کا سفر

    جو مستقیم ہے یا رب وہ راستہ ہے کہاں

    اگرچہ اس سے گزر تو رہا ہوں میں عاصمؔ

    یہ تجربہ بھی مرا اپنا تجربہ ہے کہاں

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    مری نظر مرا اپنا مشاہدہ ہے کہاں نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY