مٹی ہو کر عشق کیا ہے اک دریا کی روانی سے

محسن اسرار

مٹی ہو کر عشق کیا ہے اک دریا کی روانی سے

محسن اسرار

MORE BY محسن اسرار

    مٹی ہو کر عشق کیا ہے اک دریا کی روانی سے

    دیوار و در مانگ رہا ہوں میں بھی بہتے پانی سے

    بے خبری میں ہونٹ دیے کی لو کو چومنے والے تھے

    وہ تو اچانک پھوٹ پڑی تھی خوشبو رات کی رانی سے

    وہ مجبوری موت ہے جس میں کاسے کو بنیاد ملے

    پیاس کی شدت جب بڑھتی ہے ڈر لگتا ہے پانی سے

    دنیا والوں کے منصوبے میری سمجھ میں آئے نہیں

    زندہ رہنا سیکھ رہا ہوں اب گھر کی ویرانی سے

    جیسے تیرے دروازے تک دستک دینے پہنچے تھے

    اپنے گھر بھی لوٹ کے آتے ہم اتنی آسانی سے

    ہم کو سب معلوم ہے محسنؔ حال پس گرداب ہے کیا

    آنکھ نے سچے گر سیکھے ہیں سورج کی دربانی سے

    مآخذ:

    • Book: shor bhi sannata bhi (rekhta website) (Pg. 81)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites