میاں وہ جان کترانے لگی ہے

ساجد پریمی

میاں وہ جان کترانے لگی ہے

ساجد پریمی

MORE BYساجد پریمی

    میاں وہ جان کترانے لگی ہے

    تمنا مجھ کو سمجھانے لگی ہے

    شرافت اس قدر رسوا ہوئی ہے

    عمل پر اپنے شرمانے لگی ہے

    جوانی کی میاں دہلیز پر ہے

    غزل اب میری اترانے لگی ہے

    خدارا چھوڑ دیجے شوخ حسرت

    جو بو کافور کی آنے لگی ہے

    سدھارا ہے اسے دو چار دس نے

    تمہاری یہ غزل پانے لگی ہے

    ترا دیدار ہو حسرت بہت ہے

    چلو کہ نیند بھی آنے لگی ہے

    خریدی جا رہی ہے سبزیوں سی

    غزل بازار میں آنے لگی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY