مجھ پہ ہر ظلم روا رکھ کہ میں جو ہوں سو ہوں

انیس انصاری

مجھ پہ ہر ظلم روا رکھ کہ میں جو ہوں سو ہوں

انیس انصاری

MORE BY انیس انصاری

    INTERESTING FACT

    31اگست2007،لکھنؤ

    مجھ پہ ہر ظلم روا رکھ کہ میں جو ہوں سو ہوں

    مجھ کو اپنے سے جدا رکھ کہ میں جو ہوں سو ہوں

    میں کہ مصلوب ہوں دے مجھ کو بھی ظالم کا خطاب

    سنت عیسیٰ جلا رکھ کہ میں جو ہوں سو ہوں

    میرے گھر میں ہے جو غاصب تو نکالوں کہ نہیں

    مجھ پہ الزام جفا رکھ کہ میں جو ہوں سو ہوں

    تیرے مقتول پہ سرگرم ہیں سارے منصف

    میری لاشوں کو اٹھا رکھ کہ میں جو ہوں سو ہوں

    گرم آہوں پہ ہے الزام کہ ہوں شعلہ نفس

    مجھ کو پھونکوں سے بجھا رکھ کہ میں جو ہوں سو ہوں

    کیوں صحیفوں میں لکھا ہے کہ ملے گا انصاف

    لفظ‌ و معنی نہ جدا رکھ کہ میں جو ہوں سو ہوں

    تیری زنبیل میں ہر چال پرانی ہے رقیب

    مجھ کو اپنوں سے لڑا رکھ کہ میں جو ہوں سو ہوں

    اپنے ورثے سے ترا قبضہ ہٹانا ہے حریص

    نام دہشت کہ بلا رکھ کہ میں جو ہوں سو ہوں

    میں نے آنکھوں میں جلا رکھا ہے آزادی کا تیل

    مت اندھیروں سے ڈرا رکھ کہ میں جو ہوں سو ہوں

    گر مرا حق نہ ملے گا تو بگڑ جائے گی بات

    اپنے پہلو سے لگا رکھ کہ میں جو ہوں سو ہوں

    کربلا رکھ کے ہتھیلی پہ چلا ہوں گھر سے

    بیعت ظلم ہٹا رکھ کہ میں جو ہوں سو ہوں

    جب زمینوں میں جڑیں ہیں تو کدھر جاؤں گا

    میری شاخیں نہ کٹا رکھ کہ میں جو ہوں سو ہوں

    عدل کی مٹی میں اگتے نہیں دہشت کے ببول

    اپنی مٹی کو صفا رکھ کہ میں جو ہوں سو ہوں

    بند آنکھوں سے سیہ رو نظر آئے گا انیسؔ

    چشم بینا کو کھلا رکھ کہ میں جو ہوں سو ہوں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY