مجھے ان آتے جاتے موسموں سے ڈر نہیں لگتا

سلیم احمد

مجھے ان آتے جاتے موسموں سے ڈر نہیں لگتا

سلیم احمد

MORE BYسلیم احمد

    مجھے ان آتے جاتے موسموں سے ڈر نہیں لگتا

    نئے اور پر اذیت منظروں سے ڈر نہیں لگتا

    خموشی کے ہیں آنگن اور سناٹے کی دیواریں

    یہ کیسے لوگ ہیں جن کو گھروں سے ڈر نہیں لگتا

    مجھے اس کاغذی کشتی پہ اک اندھا بھروسا ہے

    کہ طوفاں میں بھی گہرے پانیوں سے ڈر نہیں لگتا

    سمندر چیختا رہتا ہے پس منظر میں اور مجھ کو

    اندھیرے میں اکیلے ساحلوں سے ڈر نہیں لگتا

    یہ کیسے لوگ ہیں صدیوں کی ویرانی میں رہتے ہیں

    انہیں کمروں کی بوسیدہ چھتوں سے ڈر نہیں لگتا

    مجھے کچھ ایسی آنکھیں چاہئیں اپنے رفیقوں میں

    جنہیں بیباک سچے آئنوں سے ڈر نہیں لگتا

    مرے پیچھے کہاں آئے ہو نامعلوم کی دھن میں

    تمہیں کیا ان اندھیرے راستوں سے ڈر نہیں لگتا

    یہ ممکن ہے وہ ان کو موت کی سرحد پہ لے جائیں

    پرندوں کو مگر اپنے پروں سے ڈر نہیں لگتا

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    مجھے ان آتے جاتے موسموں سے ڈر نہیں لگتا نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY