مجھے خبر نہیں غم کیا ہے اور خوشی کیا ہے

احسن مارہروی

مجھے خبر نہیں غم کیا ہے اور خوشی کیا ہے

احسن مارہروی

MORE BYاحسن مارہروی

    مجھے خبر نہیں غم کیا ہے اور خوشی کیا ہے

    یہ زندگی کی ہے صورت تو زندگی کیا ہے

    فغاں تو عشق کی اک مشق ابتدائی ہے

    ابھی تو اور بڑھے گی یہ لے ابھی کیا ہے

    تمام عمر اسی رنج میں تمام ہوئی

    کبھی یہ تم نے نہ پوچھا تری خوشی کیا ہے

    تم اپنے ہو تو نہیں غم کسی مخالف کا

    زمانہ کیا ہے فلک کیا ہے مدعی کیا ہے

    صلاح کار بنایا ہے مصلحت سے اسے

    وگرنہ ناصح ناداں کی دوستی کیا ہے

    دلوں کو کھینچ رہی ہے کسی کی مست نگاہ

    یہ دل کشی ہے تو پھر عذر مے کشی کیا ہے

    مذاق عشق کو سمجھو گے یوں نہ تم ناصح

    لگا کے دل کہیں دیکھو یہ دل لگی کیا ہے

    وہ رات دن نہیں ملتے تو ضد نہ کر احسنؔ

    کبھی کبھی کی ملاقات بھی بری کیا ہے

    مآخذ :
    • کتاب : Karwaan-e-Ghazal (Pg. 28)
    • Author : Farooq Argali
    • مطبع : Farid Book Depot (Pvt.) Ltd (2004)
    • اشاعت : 2004

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY