مجھے ملال بھی اس کی طرف سے ہوتا ہے

محسن اسرار

مجھے ملال بھی اس کی طرف سے ہوتا ہے

محسن اسرار

MORE BYمحسن اسرار

    مجھے ملال بھی اس کی طرف سے ہوتا ہے

    مگر یہ حال بھی اس کی طرف سے ہوتا ہے

    میں ٹوٹتا بھی ہوں اور خود ہی جڑ بھی جاتا ہوں

    کہ یہ کمال بھی اس کی طرف سے ہوتا ہے

    پکارتا بھی وہی ہے مجھے سفر کے لیے

    سفر محال بھی اس کی طرف سے ہوتا ہے

    جواب دیتا ہے میرے ہر اک سوال کا وہ

    مگر سوال بھی اس کی طرف سے ہوتا ہے

    وہ میرے حال سے مجھ کو ہی بے خبر کر دے

    یہ احتمال بھی اس کی طرف سے ہوتا ہے

    میں اس کے ہجر میں کیوں ٹوٹ کر نہیں رویا

    یہ اک سوال بھی اس کی طرف سے ہوتا ہے

    جب آگہی مجھے گمراہ کرتی ہے محسنؔ

    جنوں بحال بھی اس کی طرف سے ہوتا ہے

    مآخذ :
    • کتاب : shor bhi sannata bhi (rekhta website) (Pg. 118)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY