مجھے مہماں ہی جانو رات بھر کا

عمر انصاری

مجھے مہماں ہی جانو رات بھر کا

عمر انصاری

MORE BYعمر انصاری

    مجھے مہماں ہی جانو رات بھر کا

    دیا ہوں دوستوں میں رہ گزر کا

    سناؤں کیا کہ طولانی بہت ہے

    فسانہ میری عمر مختصر کا

    چلیں کہہ دو ہواؤں سے سنبھل کے

    بھرا رکھا ہے ساغر چشم تر کا

    چلے جو دھوپ میں منزل تھی ان کی

    ہمیں تو کھا گیا سایہ شجر کا

    ہٹائے کچھ تو پتھر ٹھوکروں نے

    ہوا تو صاف کچھ رستہ سفر کا

    جسے دنیا نے بس آنسو ہی جانا

    فرستادہ تھا اک دل کے نگر کا

    غموں میں کس کو میں ہنسنا سکھاؤں

    ملے بھی قدرداں کوئی ہنر کا

    یہاں تو فاتح عالم وہی ہے

    بدلنا جس کو آ جائے نظر کا

    نفاق باہمی ہے جو ابھی تک

    کھڑا ہے راستہ روکے عمرؔ کا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY