مجھے نہیں ہے کوئی وہم اپنے بارے میں

اقبال ساجد

مجھے نہیں ہے کوئی وہم اپنے بارے میں

اقبال ساجد

MORE BYاقبال ساجد

    مجھے نہیں ہے کوئی وہم اپنے بارے میں

    بھرو نہ حد سے زیادہ ہوا غبارے میں

    تماشا ختم ہوا دھوپ کے مداری کا

    سنہری سانپ چھپے شام کے پٹارے میں

    جسے میں دیکھ چکا اس کو لوگ کیوں دیکھیں

    نہ چھوڑی کوئی بھی باقی کشش نظارے میں

    وہ بولتا تھا مگر لب نہیں ہلاتا تھا

    اشارہ کرتا تھا جنبش نہ تھی اشارے میں

    تمام لوگ گھروں کی چھتوں پہ آ جائیں

    بڑی کشش ہے نئے چاند کے نظارے میں

    ملے مجھے بھی اگر کوئی شام فرصت کی

    میں کیا ہوں کون ہوں سوچوں گا اپنے بارے میں

    پرانی سمت مڑے گا نہ کوئی بھی ساجدؔ

    یہ عہد نو نہ بہے گا قدیم دھارے میں

    مآخذ:

    • کتاب : kulliyat-e-iqbaal saajid (Pg. 271)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY