منہ نہ ڈھانکو اب تو صورت دیکھ لی

رند لکھنوی

منہ نہ ڈھانکو اب تو صورت دیکھ لی

رند لکھنوی

MORE BY رند لکھنوی

    منہ نہ ڈھانکو اب تو صورت دیکھ لی

    دیکھ لی اے حور طلعت دیکھ لی

    شکل بدلی اور صورت ہو گئی

    اک نظر جس نے وہ صورت دیکھ لی

    ایک بت سجدہ نہیں کرتا تجھے

    بس خدایا تیری قدرت دیکھ لی

    ہے عیاں حال سگ اصحاب کہف

    جانور کی آدمیت دیکھ لی

    چار دن بھی تو نہ تم سے نبھ سکی

    آپ کی صاحب سلامت دیکھ لی

    جانتے تھے ہم نہ ایذا ہجر کی

    وہ بھی صاحب کی بدولت دیکھ لی

    گھورتے ہیں اب نگاہ قہر سے

    چار دن چشم عنایت دیکھ لی

    کیوں اجل اب زہر پسواتا ہوں میں

    راہ تیری ایک مدت دیکھ لی

    کھل گئی بندے پہ قدر و منزلت

    تھی جو صاحب کی حقیقت دیکھ لی

    جا کے گھر جھوٹوں نہ پوچھی بات تک

    بس تری جھوٹی محبت دیکھ لی

    اس سے کہہ عادت سے جو واقف نہ ہو

    دیکھ لی خو تیری خصلت دیکھ لی

    بحر ہستی میں فقط مثل حباب

    ہے مجھے اک دم کی مہلت دیکھ لی

    آپ حیراں ہوگا اپنے حسن کا

    آئینہ میں گر وہ صورت دیکھ لی

    چاندنی راتوں میں چلاتا پھرا

    چاند سی جس نے وہ صورت دیکھ لی

    پھر وہی ہے بوریا اور اپنا فقر

    چار دن کی جاہ و حشمت دیکھ لی

    کیوں چراتا ہے وہ کافر مجھ سے آنکھ

    کیا نگاہ چشم حسرت دیکھ لی

    یاد آیا رندؔ وہ پیماں شکن

    گر کہیں باہم محبت دیکھ لی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY