لطف وہ عشق میں پائے ہیں کہ جی جانتا ہے

داغؔ دہلوی

لطف وہ عشق میں پائے ہیں کہ جی جانتا ہے

داغؔ دہلوی

MORE BY داغؔ دہلوی

    لطف وہ عشق میں پائے ہیں کہ جی جانتا ہے

    رنج بھی ایسے اٹھائے ہیں کہ جی جانتا ہے

    جو زمانے کے ستم ہیں وہ زمانہ جانے

    تو نے دل اتنے ستائے ہیں کہ جی جانتا ہے

    تم نہیں جانتے اب تک یہ تمہارے انداز

    وہ مرے دل میں سمائے ہیں کہ جی جانتا ہے

    انہیں قدموں نے تمہارے انہیں قدموں کی قسم

    خاک میں اتنے ملائے ہیں کہ جی جانتا ہے

    دوستی میں تری در پردہ ہمارے دشمن

    اس قدر اپنے پرائے ہیں کہ جی جانتا ہے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    فریدہ خانم

    فریدہ خانم

    مآخذ:

    • Book: Junoon (Pg. 39)
    • Author: Naseem Muqri
    • مطبع: Naseem Muqri (1990)
    • اشاعت: 1990

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites