مشکل ہے کہ اب شہر میں نکلے کوئی گھر سے

پروین شاکر

مشکل ہے کہ اب شہر میں نکلے کوئی گھر سے

پروین شاکر

MORE BYپروین شاکر

    مشکل ہے کہ اب شہر میں نکلے کوئی گھر سے

    دستار پہ بات آ گئی ہوتی ہوئی سر سے

    برسا بھی تو کس دشت کے بے فیض بدن پر

    اک عمر مرے کھیت تھے جس ابر کو ترسے

    کل رات جو ایندھن کے لیے کٹ کے گرا ہے

    چڑیوں کو بڑا پیار تھا اس بوڑھے شجر سے

    محنت مری آندھی سے تو منسوب نہیں تھی

    رہنا تھا کوئی ربط شجر کا بھی ثمر سے

    خود اپنے سے ملنے کا تو یارا نہ تھا مجھ میں

    میں بھیڑ میں گم ہو گئی تنہائی کے ڈر سے

    بے نام مسافت ہی مقدر ہے تو کیا غم

    منزل کا تعین کبھی ہوتا ہے سفر سے

    پتھرایا ہے دل یوں کہ کوئی اسم پڑھا جائے

    یہ شہر نکلتا نہیں جادو کے اثر سے

    نکلے ہیں تو رستے میں کہیں شام بھی ہوگی

    سورج بھی مگر آئے گا اس رہ گزر سے

    مأخذ :
    • کتاب : kulliyaat-e-maahe tamaam(sadbarg) (Pg. 108)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY