Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

مستقل رونے سے دل کی بے کلی بڑھ جائے گی

بھارت بھوشن پنت

مستقل رونے سے دل کی بے کلی بڑھ جائے گی

بھارت بھوشن پنت

MORE BYبھارت بھوشن پنت

    مستقل رونے سے دل کی بے کلی بڑھ جائے گی

    بارشیں ہوتی رہیں تو یہ ندی بڑھ جائے گی

    عشق کی راہوں میں حائل ہو رہی ہے آگہی

    اب جنوں بڑھ جائے گا دیوانگی بڑھ جائے گی

    ہر گھڑی تیرا تصور ہر نفس تیرا خیال

    اس طرح تو اور بھی تیری کمی بڑھ جائے گی

    ہو سکے تو اس حصار ذات سے باہر نکل

    حبس میں رہنے سے وحشت اور بھی بڑھ جائے گی

    اس نے سورج کے مقابل رکھ دیئے اپنے چراغ

    وہ یہ سمجھا اس طرح کچھ روشنی بڑھ جائے گی

    عشق کے تنہا سفر میں کوئی سایہ ڈھونڈ لے

    دھوپ میں چلتا رہا تو تشنگی بڑھ جائے گی

    تو ہمیشہ مانگتا رہتا ہے کیوں غم سے نجات

    غم نہیں ہوں گے تو کیا تیری خوشی بڑھ جائے گی

    ہو سکے تو ہم پہ ظاہر کر دے اپنے دل کا حال

    سوچتے رہنے سے تو سنجیدگی بڑھ جائے گی

    اپنی تنہائی میں کس سے گفتگو کرتا ہے تو

    ان صداؤں سے تو شب کی خامشی بڑھ جائے گی

    کیا پتہ تھا رات بھر یوں جاگنا پڑ جائے گا

    اک دیا بجھتے ہی اتنی تیرگی بڑھ جائے گی

    مأخذ :
    • کتاب : Bechehragi (Pg. 38)
    • Author : bharat bhushan pant
    • مطبع : Suman prakashan Alambagh,Lucknow (2010)
    • اشاعت : 2010
    ગુજરાતી ભાષા-સાહિત્યનો મંચ : રેખ્તા ગુજરાતી

    ગુજરાતી ભાષા-સાહિત્યનો મંચ : રેખ્તા ગુજરાતી

    મધ્યકાલથી લઈ સાંપ્રત સમય સુધીની ચૂંટેલી કવિતાનો ખજાનો હવે છે માત્ર એક ક્લિક પર. સાથે સાથે સાહિત્યિક વીડિયો અને શબ્દકોશની સગવડ પણ છે. સંતસાહિત્ય, ડાયસ્પોરા સાહિત્ય, પ્રતિબદ્ધ સાહિત્ય અને ગુજરાતના અનેક ઐતિહાસિક પુસ્તકાલયોના દુર્લભ પુસ્તકો પણ તમે રેખ્તા ગુજરાતી પર વાંચી શકશો

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

    GET YOUR PASS
    بولیے