نہ منزلوں کو نہ ہم رہ گزر کو دیکھتے ہیں

احمد فراز

نہ منزلوں کو نہ ہم رہ گزر کو دیکھتے ہیں

احمد فراز

MORE BYاحمد فراز

    نہ منزلوں کو نہ ہم رہ گزر کو دیکھتے ہیں

    عجب سفر ہے کہ بس ہم سفر کو دیکھتے ہیں

    نہ پوچھ جب وہ گزرتا ہے بے نیازی سے

    تو کس ملال سے ہم نامہ بر کو دیکھتے ہیں

    ترے جمال سے ہٹ کر بھی ایک دنیا ہے

    یہ سیر چشم مگر کب ادھر کو دیکھتے ہیں

    عجب فسون خریدار کا اثر ہے کہ ہم

    اسی کی آنکھ سے اپنے ہنر کو دیکھتے ہیں

    فرازؔ در خور سجدہ ہر آستانہ نہیں

    ہم اپنے دل کے حوالے سے در کو دیکھتے ہیں

    موضوعات :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY