ناؤ دریا میں چلے سامنے منجدھار بھی ہو
ناؤ دریا میں چلے سامنے منجدھار بھی ہو
ڈوب جانے کے لئے ہر کوئی تیار بھی ہو
کیسے روکے گا سفر میں کوئی رستہ جب کہ
دل میں اک جوش بھی ہو پاؤں میں رفتار بھی ہو
ساری امیدیں اسی ایک سہارے کی طرف
ناامیدی کے سفر میں وہی دیوار بھی ہو
ہر طرف سے نئے الزام کی بارش مجھ پر
اپنے ہونے کا یہ احساس گنہ گار بھی ہو
جس دعا کے لئے وہ رات کٹی آنکھوں میں
وہ دعا خود سے گزر جانے کا آزار بھی ہو
فاتحہ اپنے گناہوں کا بھی پڑھتا ہے ظفرؔ
زندہ احساس کے ہو جانے سے بیزار بھی ہو
- کتاب : Ehsas ki Hijrat (Gazal Collection) (Pg. 26)
- Author : Zafar Imam
- مطبع : Asri Sang-e-meel Publications, Patna (2008)
- اشاعت : 2008
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.