ناز کرتا ہے جو تو حسن میں یکتا ہو کر

جلیل مانک پوری

ناز کرتا ہے جو تو حسن میں یکتا ہو کر

جلیل مانک پوری

MORE BY جلیل مانک پوری

    ناز کرتا ہے جو تو حسن میں یکتا ہو کر

    میں بھی نازاں ہوں ترا عاشق شیدا ہو کر

    میں نہ سمجھا تھا کہ اشکوں سے اٹھے گا طوفاں

    چند قطروں نے ڈبویا مجھے دریا ہو کر

    چشم بیمار جو پہلے تھی وہی اب بھی ہے

    کچھ بنائے نہ بنی تم سے مسیحا ہو کر

    کس کے رخسار دم سیر چمن یاد آئے

    پھول آنکھوں میں کھٹکنے لگے کانٹا ہو کر

    درد تھا دل میں تو جینے کا مزہ ملتا تھا

    اب تو بیمار سے بدتر ہوں میں اچھا ہو کر

    دام سے چھوٹ کے بھی میری اسیری نہ گئی

    زلف صیاد گلے پڑ گئی پھندا ہو کر

    چھپ کے رہنا ہے جو سب سے تو یہ مشکل کیا ہے

    تم مرے دل میں رہو دل کی تمنا ہو کر

    کیا ستم ہے شب وعدہ وہ حنا ملتے ہیں

    رنگ لائے نہ کہیں خون تمنا ہو کر

    دہن یار کی تعریف جو کی میں نے جلیلؔ

    اڑ گیا طائر مضموں مرا عنقا ہو کر

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites