نہیں یہ ضد کہ ہر اک درد تو مرا لے جا

لطف الرحمن

نہیں یہ ضد کہ ہر اک درد تو مرا لے جا

لطف الرحمن

MORE BYلطف الرحمن

    نہیں یہ ضد کہ ہر اک درد تو مرا لے جا

    جو ہو سکے تو یہ برسوں کا رت جگا لے جا

    ترا تو کیا کہ خود اپنا بھی میں کبھی نہ رہا

    مرے خیال سے خوابوں کا سلسلہ لے جا

    کسی نے دور بہت دور سے پکارا پھر

    دلوں کی قربتیں آنکھوں کا فاصلہ لے جا

    نکل گیا ہوں بہت اپنی ذات سے آگے

    تو مجھ سے میرے بچھڑنے کا سانحہ لے جا

    میں خود ہی اپنے تعاقب میں پھر رہا ہوں ابھی

    اٹھا کے تو میری راہوں سے راستا لے جا

    عجیب زہر رواں ہے لہو کی گردش میں

    کبھی تو شعلگئ جاں کا ذائقہ لے جا

    امیر شہر مجھے حرمت ہنر ہے بہت

    یہ اپنا طرۂ دستار یہ قبا لے جا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY