نقاب رخ اٹھایا جا رہا ہے

شکیب جلالی

نقاب رخ اٹھایا جا رہا ہے

شکیب جلالی

MORE BYشکیب جلالی

    نقاب رخ اٹھایا جا رہا ہے

    گھٹا میں چاند آیا جا رہا ہے

    زمانے کی نگاہوں میں سمو کر

    مجھے دل سے بھلایا جا رہا ہے

    کہاں کا جام جب یاں ذوق مستی

    نگاہوں سے پلایا جا رہا ہے

    ابھی ارمان کچھ باقی ہیں دل میں

    مجھے پھر آزمایا جا رہا ہے

    پلا کر پھر شراب حسن و جلوہ

    مجھے بے خود بنایا جا رہا ہے

    سلامت آپ کا جور مسلسل

    مرے دل کو دکھایا جا رہا ہے

    شکیبؔ اب وہ تصور میں نہ آئیں

    کلیجہ منہ کو آیا جا رہا ہے

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نقاب رخ اٹھایا جا رہا ہے نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY