نقشے اسی کے دل میں ہیں اب تک کھنچے ہوئے

عزیز حامد مدنی

نقشے اسی کے دل میں ہیں اب تک کھنچے ہوئے

عزیز حامد مدنی

MORE BYعزیز حامد مدنی

    نقشے اسی کے دل میں ہیں اب تک کھنچے ہوئے

    وہ دور عشق تھا کہ بڑے معرکے ہوئے

    اتنا تو تھا کہ وہ بھی مسافر نواز تھے

    مجنوں کے ساتھ تھے جو بگولے لگے ہوئے

    آئی ہے اس سے پچھلے پہر گفتگو کی یاد

    وہ خلوت وصال وہ پردے چھٹے ہوئے

    کیوں ہم نفس چلا ہے تو ان کے سراغ میں

    جس عشق بے غرض کے نشاں ہیں مٹے ہوئے

    یہ مے کدہ ہے اس میں کوئی قحط مے نہیں

    چلتے رہیں گے چند سبو دم کیے ہوئے

    کل شب سے کچھ خیال مجھے بت کدے کا ہے

    سنتا ہوں اک چراغ جلا رت جگے ہوئے

    میری وفا ہے اس کی اداسی کا ایک باب

    مدت ہوئی ہے جس سے مجھے اب ملے ہوئے

    اللہ رے فیض بادہ پرستان پیش رو

    نکلے زمیں سے شیشۂ مے کچھ دبے ہوئے

    میں بھی تو ایک صبح کا تارہ ہوں تیز رو

    آپ اپنی روشنی میں اکیلے چلے ہوئے

    مآخذ :
    • کتاب : Kulliyat-e-Aziz Hamid Madni (Pg. 246)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY