نظر آنے سے پہلے ڈر رہا ہوں

امیر قزلباش

نظر آنے سے پہلے ڈر رہا ہوں

امیر قزلباش

MORE BY امیر قزلباش

    نظر آنے سے پہلے ڈر رہا ہوں

    کہ ہر منظر کا پس منظر رہا ہوں

    مجھے ہونا پڑے گا ریزہ ریزہ

    میں سر سے پاؤں تک پتھر رہا ہوں

    کسی کو کیوں میں یہ اعزاز بخشوں گا

    میں خود اپنی حفاظت کر رہا ہوں

    مجھی کو سرخ رو ہونے کا حق ہے

    کہ میں اپنے لہو میں تر رہا ہوں

    مرے گھر میں تو کوئی بھی نہیں ہے

    خدا جانے میں کس سے ڈر رہا ہوں

    میں کیا جانوں گھروں کا حال کیا ہے

    میں ساری زندگی باہر رہا ہوں

    تعلق ہے اسی بستی سے میرا

    ہمیشہ سے مگر بچ کر رہا ہوں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY