نظر بھر کے یوں جو مجھے دیکھتا ہے

امت شرما میت

نظر بھر کے یوں جو مجھے دیکھتا ہے

امت شرما میت

MORE BY امت شرما میت

    نظر بھر کے یوں جو مجھے دیکھتا ہے

    بتا بھی دے مجھ کو کہ کیا سوچتا ہے

    محبت نہیں جیسے کیا کر لیا ہو

    زمانہ مجھے اس قدر ٹوکتا ہے

    دسمبر کی سردی ہے اس کے ہی جیسی

    ذرا سا جو چھو لے بدن کانپتا ہے

    لگایا ہے دل بھی تو پتھر سے میں نے

    مری زندگی کی یہی اک خطا ہے

    جسے دیکھ کے غم بھی رستہ بدل دے

    وہ چہرہ نہ جانے کہاں لاپتہ ہے

    کوئی بات دل میں یقیناً ہی ہے جو

    وہ ملتے ہوئے غور سے دیکھتا ہے

    اسی کی گلی کا کوئی ایک لڑکا

    محبت کا مجھ سے ہنر پوچھتا ہے

    نہ ڈھونڈھو کہیں بھی ملوں گا یہیں پہ

    یہ اجڑی حویلی ہی میرا پتہ ہے

    کوئی فرق پڑتا نہیں میتؔ کو اب

    جہاں اس کے بارے میں کیا سوچتا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY