نظر کا مل کے ٹکرانا نہ تم بھولے نہ ہم بھولے

کنولؔ ڈبائیوی

نظر کا مل کے ٹکرانا نہ تم بھولے نہ ہم بھولے

کنولؔ ڈبائیوی

MORE BY کنولؔ ڈبائیوی

    نظر کا مل کے ٹکرانا نہ تم بھولے نہ ہم بھولے

    محبت کا وہ افسانہ نہ تم بھولے نہ ہم بھولے

    ستایا تھا ہمیں کتنا زمانے کے تغیر نے

    زمانے کا بدل جانا نہ تم بھولے نہ ہم بھولے

    بھری برسات میں پیہم جدائی کے تصور سے

    وہ مل کر اشک برسانا نہ تم بھولے نہ ہم بھولے

    بہاریں گلستاں کی راس جب ہم کو نہ آئی تھیں

    خزاں سے دل کا بہلانا نہ تم بھولے نہ ہم بھولے

    گزاریں کتنی راتیں گن کے تارے درد فرقت میں

    جدائی کا وہ افسانہ نہ تم بھولے نہ ہم بھولے

    فریب آرزو کھانا ہی فطرت ہے محبت کی

    فریب آرزو کھانا نہ تم بھولے نہ ہم بھولے

    ہنسی میں کٹتی تھیں راتیں خوشی میں دن گزرتا تھا

    کنولؔ ماضی کا افسانہ نہ تم بھولے نہ ہم بھولے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY