نظر کے سامنے رہنا نظر نہیں آنا

آفتاب اقبال شمیم

نظر کے سامنے رہنا نظر نہیں آنا

آفتاب اقبال شمیم

MORE BYآفتاب اقبال شمیم

    نظر کے سامنے رہنا نظر نہیں آنا

    ترے سوا یہ کسی کو ہنر نہیں آنا

    یہ انتظار مگر اختیار میں بھی نہیں

    پتہ تو ہے کہ اسے عمر بھر نہیں آنا

    یہ ہجرتیں ہیں زمین و زماں سے آگے کی

    جو جا چکا ہے اسے لوٹ کر نہیں آنا

    ذرا سی غیب کی لکنت زبان میں لاؤ

    بغیر اس کے سخن میں اثر نہیں آنا

    ہر آنے والا نیا راستہ دکھاتا ہے

    اسی لئے تو ہمیں راہ پر نہیں آنا

    ذرا وہ دوسری کھڑکی بھی کھول کمرے کی

    نہیں تو تازہ ہوا نے ادھر نہیں آنا

    کروں مسافتیں نا آفریدہ راہوں کی

    مجھ ایسا بعد میں آوارہ سر نہیں آنا

    موضوعات:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY