نظر ملی تو نظاروں میں بانٹ دی میں نے

کاشف حسین غائر

نظر ملی تو نظاروں میں بانٹ دی میں نے

کاشف حسین غائر

MORE BYکاشف حسین غائر

    نظر ملی تو نظاروں میں بانٹ دی میں نے

    یہ روشنی بھی ستاروں میں بانٹ دی میں نے

    بس ایک شام بچی تھی تمہارے حصے کی

    مگر وہ شام بھی یاروں میں بانٹ دی میں نے

    جناب قرض چکایا ہے یوں عناصر کا

    کہ زندگی انہی چاروں میں بانٹ دی میں نے

    پکارتے تھے برابر مجھے سفر کے لئے

    متاع خواب سواروں میں بانٹ دی میں نے

    ہوا مزاج تھا کرتا بھی کیا سمندر کا

    اک ایک لہر کناروں میں بانٹ دی میں نے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY