نے زخم خوں چکاں ہوں نہ حلق بریدہ ہوں

مصحفی غلام ہمدانی

نے زخم خوں چکاں ہوں نہ حلق بریدہ ہوں

مصحفی غلام ہمدانی

MORE BYمصحفی غلام ہمدانی

    نے زخم خوں چکاں ہوں نہ حلق بریدہ ہوں

    عاشق ہوں میں کسی کا اور آفت رسیدہ ہوں

    ہستی سے اپنی مجھ کو نہیں مطلق آگہی

    عمر گزشتہ یا کہ غزال رمیدہ ہوں

    نکلے ہے میری وضع سے اک شورش جنوں

    دریا نہیں میں سیل گریباں دریدہ ہوں

    مرغان باغ میں مرے نالے کا شور ہے

    ہر چند میں ابھی نفس نا کشیدہ ہوں

    پہنچے سزا کو اپنی جو منہ پر مرے چڑھے

    میں دست روزگار میں تیغ کشیدہ ہوں

    جاتا ہے جلد قافلۂ عمر کس قدر

    مہلت نہیں ہے اتنی کہ ٹک آرمیدہ ہوں

    کون اٹھ گیا ہے پاس سے میرے جو مصحفیؔ

    روتا ہوں زار زار پڑا آب دیدہ ہوں

    مأخذ :
    • کتاب : kulliyat-e-mas.hafii(divan-e-doom) (Pg. 198)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY