نبھاؤ اب اسے جو وضع بھی بنا لی ہے

حسن اختر جلیل

نبھاؤ اب اسے جو وضع بھی بنا لی ہے

حسن اختر جلیل

MORE BYحسن اختر جلیل

    نبھاؤ اب اسے جو وضع بھی بنا لی ہے

    وگرنہ دہر تو اہل وفا سے خالی ہے

    حریم دل میں تری آرزو نے روشن کی

    وہ آگ جس نے شب زندگی اجالی ہے

    تری نگاہ کرم ہے وگرنہ اے غم دوست

    زمانہ کیا ترے شیدائیوں سے خالی ہے

    ستم ہے میری طرف پیار سے نظر نہ کرے

    وہ بت کہ جس میں مرے فن نے جان ڈالی ہے

    بجا کہ حسن کا احساس ہے فریب نظر

    مگر وہ نقش جو دل میں ہے کب خیالی ہے

    افق سے گرد چھٹے تو خبر ملے شاید

    سحر طلوع ہوئی ہے کہ ہونے والی ہے

    اب اہل بزم غم تیرگی کریں تو کریں

    ہمارے پاس تو جو شمع تھی جلالی ہے

    ہوا کے دوش پہ اڑتی ہوئی خبر تو سنو

    ہوا کی بات بہت دور جانے والی ہے

    مآخذ:

    • کتاب : Range-e-Gazal (Pg. 186)
    • Author : shahzaad ahmad
    • مطبع : Ali Printers, 19-A Abate Road, Lahore (1988)
    • اشاعت : 1988

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY