نگاہ فقر میں شان سکندری کیا ہے

علامہ اقبال

نگاہ فقر میں شان سکندری کیا ہے

علامہ اقبال

MORE BYعلامہ اقبال

    INTERESTING FACT

    ( بال جبریل)

    نگاہ فقر میں شان سکندری کیا ہے

    خراج کی جو گدا ہو وہ قیصری کیا ہے

    بتوں سے تجھ کو امیدیں خدا سے نومیدی

    مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے

    فلک نے ان کو عطا کی ہے خواجگی کہ جنہیں

    خبر نہیں روش بندہ پروری کیا ہے

    فقط نگاہ سے ہوتا ہے فیصلہ دل کا

    نہ ہو نگاہ میں شوخی تو دلبری کیا ہے

    اسی خطا سے عتاب ملوک ہے مجھ پر

    کہ جانتا ہوں مآل سکندری کیا ہے

    کسے نہیں ہے تمنائے سروری لیکن

    خودی کی موت ہو جس میں وہ سروری کیا ہے

    خوش آ گئی ہے جہاں کو قلندری میری

    وگرنہ شعر مرا کیا ہے شاعری کیا ہے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    شوکت علی

    شوکت علی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY