گلی گلی آباد تھی جن سے کہاں گئے وہ لوگ

ناصر کاظمی

گلی گلی آباد تھی جن سے کہاں گئے وہ لوگ

ناصر کاظمی

MORE BYناصر کاظمی

    گلی گلی آباد تھی جن سے کہاں گئے وہ لوگ

    دلی اب کے ایسی اجڑی گھر گھر پھیلا سوگ

    سارا سارا دن گلیوں میں پھرتے ہیں بے کار

    راتوں اٹھ اٹھ کر روتے ہیں اس نگری کے لوگ

    سہمے سہمے سے بیٹھے ہیں راگی اور فن کار

    بھور بھئے اب ان گلیوں میں کون سنائے جوگ

    جب تک ہم مصروف رہے یہ دنیا تھی سنسان

    دن ڈھلتے ہی دھیان میں آئے کیسے کیسے لوگ

    ناصرؔ ہم کو رات ملا تھا تنہا اور اداس

    وہی پرانی باتیں اس کی وہی پرانا روگ

    RECITATIONS

    نامعلوم

    نامعلوم

    نامعلوم

    گلی گلی آباد تھی جن سے کہاں گئے وہ لوگ نامعلوم

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY