جس کی سوندھی سوندھی خوشبو آنگن آنگن پلتی تھی

حماد نیازی

جس کی سوندھی سوندھی خوشبو آنگن آنگن پلتی تھی

حماد نیازی

MORE BYحماد نیازی

    جس کی سوندھی سوندھی خوشبو آنگن آنگن پلتی تھی

    اس مٹی کا بوجھ اٹھاتے جسم کی مٹی گلتی تھی

    جس کو تاپ کے گرم لحافوں میں بچے سو جاتے تھے

    دل کے چولھے میں ہر دم وہ آگ برابر جلتی تھی

    گرم دوپہروں میں جلتے صحنوں میں جھاڑو دیتے تھے

    جن بوڑھے ہاتھوں سے پک کر روٹی پھول میں ڈھلتی تھی

    کسی کہانی میں ویرانی میں جب دل گھبراتا تھا

    کسی عزیز دعا کی خوشبو ساتھ ہمارے چلتی تھی

    گرد اڑاتے زرد بگولے در پر دستک دیتے تھے

    اور خستہ دیواروں کی پل بھر میں شکل بدلتی تھی

    خشک کھجور کے پتوں سے جب نیند کا بستر سجتا تھا

    خواب نگر کی شہزادی گلیوں میں آن نکلتی تھی

    دن آتا تھا اور سینے میں شام کا خاکہ بنتا تھا

    شام آتی تھی اور جسموں میں شام بھی آخر ڈھلتی تھی

    موضوعات :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY