صبحیں کیسی آگ لگانے والی تھیں

مغنی تبسم

صبحیں کیسی آگ لگانے والی تھیں

مغنی تبسم

MORE BYمغنی تبسم

    صبحیں کیسی آگ لگانے والی تھیں

    شامیں کیسی دھواں اٹھانے والی تھیں

    کیسا اتھاہ سمندر تھا وہ خیالوں کا

    موجیں کتنا شور مچانے والی تھیں

    دروازے سب دل میں آ کر کھلتے تھے

    دیواریں چہروں کو دکھانے والی تھیں

    رستوں میں زندہ تھی آہٹ قدموں کی

    گلیاں کیا خوشبو مہکانے والی تھیں

    برساتیں زخموں کو ہرا کر دیتی تھیں

    اور ہوائیں پھول کھلانے والی تھیں

    کیسی ویرانی اب ان پہ برستی ہے

    یہ آنکھیں تو دیے جلانے والی تھیں

    ان باتوں سے دل کا خزانہ خالی ہے

    وہ باتیں جو اگلے زمانے والی تھیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY