وہ ساحلوں پہ گانے والے کیا ہوئے

ناصر کاظمی

وہ ساحلوں پہ گانے والے کیا ہوئے

ناصر کاظمی

MORE BYناصر کاظمی

    وہ ساحلوں پہ گانے والے کیا ہوئے

    وہ کشتیاں چلانے والے کیا ہوئے

    وہ صبح آتے آتے رہ گئی کہاں

    جو قافلے تھے آنے والے کیا ہوئے

    میں ان کی راہ دیکھتا ہوں رات بھر

    وہ روشنی دکھانے والے کیا ہوئے

    یہ کون لوگ ہیں مرے ادھر ادھر

    وہ دوستی نبھانے والے کیا ہوئے

    وہ دل میں کھبنے والی آنکھیں کیا ہوئیں

    وہ ہونٹ مسکرانے والے کیا ہوئے

    عمارتیں تو جل کے راکھ ہو گئیں

    عمارتیں بنانے والے کیا ہوئے

    اکیلے گھر سے پوچھتی ہے بے کسی

    ترا دیا جلانے والے کیا ہوئے

    یہ آپ ہم تو بوجھ ہیں زمین کا

    زمیں کا بوجھ اٹھانے والے کیا ہوئے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    ناصر کاظمی

    ناصر کاظمی

    ضیا محی الدین

    ضیا محی الدین

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    وہ ساحلوں پہ گانے والے کیا ہوئے نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY