نکتہ چیں ہے غم دل اس کو سنائے نہ بنے

مرزا غالب

نکتہ چیں ہے غم دل اس کو سنائے نہ بنے

مرزا غالب

MORE BY مرزا غالب

    INTERESTING FACT

    Film: Mirza Ghalib (1954)

    نکتہ چیں ہے غم دل اس کو سنائے نہ بنے

    کیا بنے بات جہاں بات بنائے نہ بنے

    میں بلاتا تو ہوں اس کو مگر اے جذبۂ دل

    اس پہ بن جائے کچھ ایسی کہ بن آئے نہ بنے

    کھیل سمجھا ہے کہیں چھوڑ نہ دے بھول نہ جائے

    کاش یوں بھی ہو کہ بن میرے ستائے نہ بنے

    غیر پھرتا ہے لیے یوں ترے خط کو کہ اگر

    کوئی پوچھے کہ یہ کیا ہے تو چھپائے نہ بنے

    اس نزاکت کا برا ہو وہ بھلے ہیں تو کیا

    ہاتھ آویں تو انہیں ہاتھ لگائے نہ بنے

    کہہ سکے کون کہ یہ جلوہ گری کس کی ہے

    پردہ چھوڑا ہے وہ اس نے کہ اٹھائے نہ بنے

    موت کی راہ نہ دیکھوں کہ بن آئے نہ رہے

    تم کو چاہوں کہ نہ آؤ تو بلائے نہ بنے

    بوجھ وہ سر سے گرا ہے کہ اٹھائے نہ اٹھے

    کام وہ آن پڑا ہے کہ بنائے نہ بنے

    عشق پر زور نہیں ہے یہ وہ آتش غالبؔ

    کہ لگائے نہ لگے اور بجھائے نہ بنے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    انیتا سنگھوی

    انیتا سنگھوی

    عابدہ پروین

    عابدہ پروین

    کندن لال سہگل

    کندن لال سہگل

    جدن بائی

    جدن بائی

    ضیا محی الدین

    ضیا محی الدین

    RECITATIONS

    شمس الرحمن فاروقی

    شمس الرحمن فاروقی

    ضیا محی الدین

    ضیا محی الدین

    نیرہ نور

    نیرہ نور

    شمس الرحمن فاروقی

    نکتہ چیں ہے غم دل اس کو سنائے نہ بنے شمس الرحمن فاروقی

    Tagged Under

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY