نمایاں دونوں جانب شان فطرت ہوتی جاتی ہے

شکیل بدایونی

نمایاں دونوں جانب شان فطرت ہوتی جاتی ہے

شکیل بدایونی

MORE BYشکیل بدایونی

    نمایاں دونوں جانب شان فطرت ہوتی جاتی ہے

    انہیں مجھ سے مجھے ان سے محبت ہوتی جاتی ہے

    مری شام الم صبح مسرت ہوتی جاتی ہے

    کہ ہر لحظہ ترے ملنے کی صورت ہوتی جاتی ہے

    نگاہیں مضطرب اترا ہوا چہرہ زباں ساکت

    جو تھی اپنی وہی اب ان کی حالت ہوتی جاتی ہے

    نہ کیوں ہوں اس ادا پر عشق کی خودداریاں صدقے

    انہیں روداد غم سن سن کے حیرت ہوتی جاتی ہے

    کہیں راز محبت آسماں پر بھی نہ کھل جائے

    مجھے آہ و فغاں کرنے کی عادت ہوتی جاتی ہے

    محبت ہی میں ملتے ہیں شکایت کے مزے پیہم

    محبت جتنی بڑھتی ہے شکایت ہوتی جاتی ہے

    شکیلؔ ان کی جدائی میں ہے لطف زندگی زائل

    نظر بے کیف افسردہ طبیعت ہوتی جاتی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY